اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جنگ مخالف امریکی ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ سعودی عرب نے ایسے 1200 سو سے زیادہ مجرموں کو شام میں دہشت گردی اور درندگی کے لئے بھجوایا ہے جن کو سعودی عدالتوں نے موت کی سزائیں سنائی تھیں اور ان سے کہا گیا ہے کہ اگر موت کی سزا سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں شام جاکر دہشت گردانہ کاروائیوں میں شرکت کرنی پڑے گی۔

اینٹی وار نے سعودی وزارت داخلہ کی ایک خفیہ دستاویز کے حوالے سے لکھا ہے کہ آل سعود نے 1230 خطرناک مجرموں کو شام عزیمت کرکے دہشت گردوں کی صفوں میں شامل ہونے کی شرط پر مکمل طور پر معافی دی ہے۔ سعودی عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق ان مجرموں کے سر تلوار کے ذریعے قلم کئے جانے تھے۔اس رپورٹ کے مطابق آل سعود نے ان مجرموں کے خاندانوں کے لئے اچھی خاصی تنخواہیں بھی مقرر کررکھی ہیں۔ ایک اعلی عراقی اہلکار نے اپنا نام فاش نہ ہونے کی شرط پر اینٹی وار کو بتایا کہ روس نے سعودی عرب کو دھمکی دی تھی کہ اس سعودی اقدام کو اقوام متحدہ میں زیر بحث لائے گا جس کے بعد آل سعود نے مجرموں کو شام روانہ کرنے کا سلسلہ بند کردیا۔ یاد رہے کہ آل سعود نے گذشتہ سال بھی موت کی سزا پانے والے سینکڑوں افراد شام بھجوائے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/٭ـ٭